Ad Code

Ads Advertising

Firon Ko Shaitan Ki Naseehat | Islamic Stories In Urdu | Sabaq Amoz Waqiat | Copyright Free Islamic stories in Urdu

 فرعون کو شیطان کی نصیحت

Firon Ko Shaitan Ki Naseehat | Islamic Stories In Urdu | Sabaq Amoz Waqiat | Copyright Free Islamic stories in Urdu
Firon Ko Shaitan Ki Naseehat | Islamic Stories In Urdu | Sabaq Amoz Waqiat | Copyright Free Islamic stories in Urdu


ایک مرتبہ فرعون کے سامنے شیطان ظاہر ہوا اور اس نے فرعون سے پوچھا کہ تجھے کس نے خدا بنایا ہے ؟ اور تیرے اندر ایسا کون سا کمال ہے کہ تو اپنے آپ کو خدا سمجھ بیٹا ؟ تو فرعون نے کہا کہ میرے پاس بہت بڑی طاقت ہے ، میرے پاس بہت ساسونا، چاندی، ہیرے جواہرات ہیں اور میں بہت بڑے ملک کا مالک ہوں، شیطان نے پوچھا اور کیا ہے تیرے پاس؟ فرعون نے کہا کہ میرے پاس اندرونی ایسی طاقت ہے جو تیرے پاس نہیں ہے شیطان نے کہا دکھاو ؟ فرعون نے فوراً حکم دیا کہ اس وقت ایک ہزار جادو گر بلائے جائیں اور وہ سب مل کر اس شیطان کو اپنی پھونکوں اور اثر سے اڑا دیں، اور انہوں نے اپنا جادو دکھایا، شیطان کو بھی اللہ تعالیٰ نے بڑا علم دیا ہے۔ شیطان نے ایک پھونک ماری جس سے سارے جادو گروں کے اثرات ختم ہو گئے۔ دوسری مرتبہ پھر ان ایک ہزار جادو گروں نے اپنا جادو دکھایا، شیطان نے پھر ایک پھونک ماری جس سے ان کا اثر ختم ہو گیا، ان جادو گروں نے پھر آخری جادو د کھا یا شیطان نے پھر ایک پھونک ماری اور ہنس کر کہنے لگا کہ تم اگر ایسے ایسے ایک ہزار جادو بھی دکھاؤ گے تو میر اکچھ بگڑنے والا نہیں ہے، سب ہوا میں تحلیل ہو جائے گا، اے فرعون ! یادرکھ مجھے اللہ تعالیٰ نے ایسی ایسی چیزیں عطا فرمائی ہیں لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا محبوب نہیں بنایا اور مجھے اپنا فرمانبردار بندہ ماننے سے انکار کر دیا، اور تو خدا کا نا فرمان ہے تو رب کیسے ہو سکتا ہے ؟ علماء کرام اس واقعہ کے بعد لکھتے ہیں کہ انسان اگر خدا کی نافرمانی شہوت کی وجہ سے کرلے تو اس کا گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتے ہیں، نفسانی خواہش کی وجہ سے اگر گناہ سر زد ہو جائے اور انسان اپنے گناہوں سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما دیتے ہیں لیکن اگر کوئی تکبر اور غرور کرے اس کو توبہ کی توفیق نہیں دیتے یعنی تکبر اور غرور کی وجہ سے تو بہ جیسی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے، اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ (آمین)

(خطبات رحیمی جلد دوم: صفحہ 140) ( اصلاحی

واقعات جلد سوم : صفحہ 15 تا 16)

Post a Comment

0 Comments