خالد ابن عبد الجبار
قبیلہ ہمدان میں ایک تاجر رہتا تھا جس کا نام خالد ابن عبد الجبار تھا وہ تجارت کی غرض سے ملک شام سے فلسطین جاتا تھا اور دو دو سال تک اپنے کام میں مصروف رہتا جب کام ختم ہو جاتا یا اس کو اپنے گھر کی یاد ستانے لگتی تو یہ مصر میں اپنے قبیلے حمد ان میں آجاتا اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ دن گزار کر دوبارہ پھر سے اپنے کام پر چلا جاتا خالد ابن عبد الجبار تقریبا دو سال بعد شام سے واپس اپنے گھر مصر لوٹا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی طبیعت ناساز تھی کافی طبیبوں سے علاج کروانے کے بعد بھی اسے شفانہ مل سکی حتی کہ ایک امام مسجد جو کہ قبیلہ ہمدان کی مسجد کا نیا امام تھا جس کو یہاں آئے ابھی صرف چار سال ہوئے تھے یہ خالد بن عبد الجبار کو اس کے گھر جا کر پانی پر دم کر کے دیا کرتا تھا لیکن خالد ابن عبد الجبار کو شفانہ مل سکی اور ایک دن وہ خالق حقیقی سے جاملے یہ ایک امیر تاجر تھا اور یہ بات پورے مصر شہر حتی کہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ تک بھی پہنچ گئی خالد ابن عبد الجبار کی وفات فجر کے بعد ہوئی تھی اور اس کی نماز جنازہ عصر کے وقت متعین کی گئی تھی قصہ مختصر یہ کہ خالد ابن عبد الجبار کی وفات پر ایسے لگتا تھا جیسے مصر شہر کا ہر شخص آیا ہے جدھر نظر دوڑاتے لوگوں کا جم غفیر تھا نماز جنازہ سے پہلے جب خالد ابن عبد الجبار کو غسل دیے جانے کا وقت ہوا تو امام مسجد اس کو غسل دینے کے لیے اس کی میت کے پاس آیا اور دو لوگ وہ تھے جو خالد ابن عبد الجبار کی میت کو اٹھا کر امام مسجد کے پاس غسل دلوانے کے لیے آئے تھے عصر سے مغرب ہو گئی لیکن وہ دو آدمی اور امام مسجد خالد ابن عبد الجبار کو غسل دے کر واپس نہیں آئے تھے چونکہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ بھی اس جنازے میں شریک ہونے کے لیے مصر کے قبیلہ ہمدان میں پہنچے تھے جب کافی وقت گزر گیا تو سلطان نے اور دیگر لوگوں نے دریافت کیا کہ ابھی تک ان کی میت کو غسل کیوں نہیں دیا جا سکا مزید کافی دیر گزر جانے کے بعد وہ دو شخص جو امام مسجد کے ساتھ خالد ابن عبد الجبار کی میت کو غسل دے رہے تھے وہ سلطان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلطان کہ کان میں ایسی بات کہی کہ سلطان بھی سر سے پاؤں تک لرز چکے تھے ان کے چہرے سے پریشانی واضح نظر آرہی تھی سلطان کے خاص وزیر علی بن سفیان بھی ان کے ہمراہ تھے جب انہوں نے سلطان کے چہرے کو سرخ ہوتا ہوا دیکھا تو ان سے وجہ پوچھی لیکن سلطان خاموش رہے اور مغرب کی نماز ادا کرنے چلے گئے مسجد میں امام نہ تھے تو سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے خود جماعت کرائی نماز ادا کر کے لوگ جب دوبارہ میت کے گھر والوں کے پاس پہنچے تو واویلا کر نا شروع کر دیا کہ آپ نے عصر - کے وقت نماز جنازہ کا کہا تھا لیکن اب مغرب کی نماز بھی ادا ہو چکی ہے لیکن ابھی تک میت کو غسل نہیں دیا جا سکا مزید کچھ وقت گزرا تھا کہ کسی طرح یہ بات پورے مجمعے میں پھیل گئی بات یہ تھی جو ان دو لوگوں نے سلطان کے کان میں کہی تھی کہ سلطان معظم امام مسجد کا ہاتھ خالد بن عبدالجبار کی پیٹھ کے ساتھ یکجاں ہو چکا ہے یعنی بالکل چپک چکا ہے ہم نے بہت زیادہ کوشش کی کہ ان کے ہاتھ کو خالد ابن عبد الجبار کی پیٹھ سے جدا کر سکیں لیکن بہت زیادہ زور لگانے کے باوجود ہم ان کے ہاتھ کو میت کی پیٹھ سے جدا نہیں کر پائے جب یہ بات ہر شخص تک پہنچی تو ہر بندہ توبہ استغفار کرنے لگا کوئی امام مسجد کو برابھلا کہنے لگا تو کوئی میت کے بارے میں غلط سوچنے لگا لیکن سارے لوگ اب سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ
کے فیصلے کے منتظر تھے سلطان نے علماء سے مشاورت کے بعد تمام لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ جیسا کہ آپ کو حقیقت کا پتہ چل چکا ہے کہ کیا ماجرہ پیش آیا ہے اس وقت پورے پنڈال میں ہر شخص کے منہ سے تو بہ استغفار کے الفاظ نکل رہے تھے اس وقت سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عبرت ناک واقعہ بیان کیا کہ ایک دفعہ غسل کے دوران مدینہ کی ایک عورت نے مردہ عورت کی ران پر ہاتھ رکھتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ اس عورت کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے بس یہ بات کہنا تھی کہ اللہ تعالی نے اپنی ڈھیل دی ہوئی رسی کھینچ دی اس عورت کا انتقال مدینہ کی ایک بستی ہے میں ہوا تھا اور جو ہی غسل دینے والی عورت نے مندرجہ بالا الفاظ ۔ ر غسل کے دوران کہے تو اس کا ہاتھ میت کی ران کے ساتھ چپک گیا چپکنے کی قوت اس قدر تھی کہ وہ عورت اپنا ہا تھ سینچتی تو میت حسینتی تھی مگر ہاتھ نہ چھوٹتا تھا جنازے کا وقت قریب آ رہا تھا اس کا ہاتھ میت کے ساتھ چپک کر رہ چکا تھا اور بے حد کوشش کے باوجود جدا نہیں ہو رہا تھا تمام عورتوں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر کھینچا مروڑا غرض جو ممکن تھا کیا مگر سب بے سود رہا دن گزرارات ہوئی دوسرا دن گزرا پھر رات ہوئی سب ویسا ہی تھامیت سے بد بو آنے لگی اور اس کے پاس ٹھہرنا بیٹھنا بہت مشکل ہو گیا مولوی صاحبان قاری صاحبان اور تمام اسلامی طبقے سے مشاورت کے بعد طے ہوا کہ غسال عورت کا ہاتھ کاٹ کر جدا کیا جائے اور میت کو اس کے ہاتھ سمیت دفنا دیا جائے مگر اس فیصلے کو غسال عورت اور اس کے خاندان نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ہم اپنے خاندان کی عورت کو معذور نہیں کر سکتے لہذا ہمیں یہ فیصلہ قبول نہیں دوسری صورت یہ بتائی گئی کہ میت کے جسم کا وہ حصہ کاٹ دیا جائے اور ہاتھ کو آزاد کر کے میت دفنادی جائے مگر وہ بھی بے سود رہا اس بار میت کے خاندان نے اعتراض اٹھایا کہ ہم اپنی میت کی یہ توہین کرنے سے بہر حال قاصر ہیں اس دور میں امام مالک قاضی تھے بات امام مالک تک پہنچائی گئی کہ اس کیس کا فیصلہ کیا جائے امام مالک اس گھر پہنچے اور صور تحال بھانپ کر غسل دینے والی عورت سے سوال کیا اور پوچھا اے عورت کیا تم نے غسل کے دوران اس میت کے بارے میں کوئی بات کہی مسل دینے والی عورت نے سیارا قصہ امام مالک کو سنایا اور بتایا کہ اس نے مسل کے دوران باقی عورتوں کو کہا کہ اس عورت کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے امام مالک نے سوال کیا کیا تمہارے پاس اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے گواہ موجود ہیں عورت نے جواب دیا کہ اس کے پاس کوئی گواہ موجود نہیں امام مالک نے پھر پوچھا کیا اس عورت نے اپنی زندگی میں تم سے اس بات کا تذکرہ کیا جواب آیا نہیں امام مالک نے فوری حکم صادر کیا کہ اس غسال عورت نے چونکہ میت پر تہمت لگائی ہے لہذا اس کو حد مقرر کے مطابق 80 کوڑے لگائے جائیں حکم کی تعمیل کی گئی اور 70 بھی نہیں 75 بھی نہیں 79 بھی نہیں
پورے 80 کوڑے مارنے کے بعد اس عورت کا ہاتھ میت سے الگ ہوا یہ سارا واقعہ جب تمام لوگوں کے سامنے سلطان نے بیان کیا تو اس کے بعد چند علماء کرام کے ساتھ میت اور غسل دینے والے امام مسجد کے پاس پہنچے اور اس امام مسجد سے کہا کہ کیا تم نے غسل کے دوران اپنے ساتھ موجود دو مردوں کو جو بات کہی تمہارے پاس اس کا کوئی ثبوت ہے تو امام حضرت رونے لگا پھر سلطان نے کہا کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے تو امام حضرت خاموش رہا اور اس کی انکھوں سے آنسو زار و قطار نکلے جارہے تھے پھر سلطان نے اس سے کہا کہ جو بات تم نے اپنے ساتھ موجود غسل دینے والے دو مردوں سے کہی وہ بات ہمیں بھی کہو امام حضرت نے روتے ہوئے کہا کہ سلطان معظم خالد ابن عبد الجبار یعنی کے جس میت کو میں غسل دے رہا ہوں یہ بہت زیادہ بیمار ہو چکا تھا اور میں اس کے گھر پانی دم کر کے اور تعویز وغیرہ دینے کے لیے جایا کرتا تھا ایک دفعہ میں اچانک بغیر دروازہ کھٹکھٹائے اس کے گھر میں داخل ہوا تو ایک غیر محرم عورت اور خالد ابن عبدالجبار اپنے کمرے سے باہر نکلے تو مجھے شک نہیں یقین سا گزرا کے یہ اندر کوئی برا فعل کر رہے تھے کیونکہ یہ نامحرم عورت تھی اس کی بیوی اور بچے میکے گئے ہوئے تھے بس اس کے علاوہ میرے پاس کوئی ثبوت نہیں کوئی گواہ نہیں پھر امام مسجد روتے ہوئے کہنے لگا لیکن اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ ان دونوں کے درمیان کوئی اور رشتہ تھا لیکن میں نے غسل دیتے وقت یہ بات غلط کی ہے جو کہ گناہ کے زمرے میں آتی ہے اور میں نے خالد ابن عبد الجبار پر تہمت لگائی ہے میں اللہ سے معافی چاہتا ہوں اس کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس امام حضرت کو 80 کوڑے لگانے کی سزا دی اور عین 80 کوڑے پورے ہونے کے بعد امام مسجد کا ہاتھ خالد ابن عبد الجبار کی پیٹھ سے الگ ہو گیا اور اس وقت تک امام 80 کوڑے کھا کر بالکل بے ہوش ہو چکے تھے اس سارے واقعہ کے بعد نماز عشاء کی سلطان نے جماعت کرائی نماز ادا کرنے کے بعد خالد ابن عبد الجبار کی میت کا جنازہ ادا کر کے اسے دفن کر دیا گیا یہ واقعہ پورے مصر فلسطین میں اگ کی طرح پھیلا اور اس کے بعد لوگ بہت زیادہ ڈر چکے تھے جنازہ ادا کرنے کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے تمام لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کسی پر بھی بہتان نہ باندھو کسی پر بھی تہمت لگانے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچوا گر تم کچھ برا فعل کسی بھی شخص کا دیکھ بھی لو تو اسے راز رکھو بے شک اگر تم ر تم ایسا کرو گے تو ، تو اللہ تمہارے بھی راز رکھے گا اور تمہارے گناہوں پر پردہ ڈالے رکھے گا
0 Comments