Ad Code

Ads Advertising

The heartbreaking story of a prisoner and Sultan Salahuddin Ayubi ll What was the personality of Salahuddin Ayubi? II stories in Urdu

Sultan Salahuddin

 مصر کے شہر قاہرہ کے اندر ایک ہارون نامی تاجر رہتا تھا یہ بہت ہی لالچی انسان تھا دینار کمانے کی خاطر یہ ہر گھٹیا کام کر لیتا تھا یہ جتنی رقم بھی کماتا عیاشیوں میں اڑا دیتا اور پھر دوبارہ کاروبار کرنے کے لیے دیگر تاجروں سے قرضہ لیتا قرضہ بھی کھا جاتا لیکن واپس لوٹانے کا نام تک نہ لیتا تھا اس نے اپنے والد کی کمائی گئی ساری دولت بھی عیاشیوں میں اڑادی حتی کہ اس ہارون نامی تاجر نے مختلف تاجروں سے قرضہ لے لے کر خود کو دولاکھ دینار کا مقروض کر لیا اب اسے کوئی بھی مسلمان تاجر مزید قرض دینے کو تیار نہیں تھا کیونکہ یہ پچھلی رقم واپس نہیں کرتا تھا تو کوئی تاجر اسے مزید رقم کیوں کر دیتا ویسے بھی بازار کے اکثر تاجر اس کی شخصیت شخص ہے جب سے واقف ہو چکے تھے کہ یہ کن کر تو توں کا مالک شخص اسے مسلمان تاجروں نے قرضہ دینے سے صاف انکار کر دیا تو اخر اس نے ایک عیسائی تاجر سے قرضہ مانگا تو عیسائی تاجر نے اسے کہا کہ میں تجھے ایک شرط پر قرضہ دوں گا کہ تم ہمارے ساتھ شراب کے کارخانے میں برابر کے حصے دار بن جاؤ ہارون ویسے تو مسلمان تھا لیکن اس کے اندر مسلمانوں والے کوئی کام نہ تھے اس نے فورا حامی بھر لی اور چند ہزار دیناروں کے بدلے اس شراب کے کارخانے میں کام کرنے لگا تقریبا تین ماہ تک یہ اس دھندے میں ملوث رہا اور مسلمانوں کی نوجوان نسل کو بھی شراب پینے کا عادی بنانے لگا قصہ مختصر یہ کہ جب سلطان صلاح الدین ایوبی کو اس گروہ کے بارے میں معلوم ہوا کہ یہ گرو مصر کے اندر شراب بنا کر مسلمانوں کو فروخت کرتے ہیں جبکہ بظاہر یہ کارخانہ اناج کا معلوم ہوتا ہے ایک دن سلطان نے چھاپا مار کر اس کار خانے میں موجود تین عیسائیوں اور اس بارون نامی تاجر کو گرفتار کر لیا لیکن حیرانگی کی بات یہ تھی کہ ان چاروں کو گرفتار کرنے کے بعد وہ تینوں عیسائی تاجر بہت زیادہ پریشان تھے جبکہ یہ ہارون نامی مسلمان تاجر بہت خوش تھا اسے کوئی پشیمانی نہیں تھی کہ میں گرفتار ہو چکا ہوں اور اب مجھے سزا بھی دی جائے گی خیر سلطان نے سارے معاملات کی چھان بین کرنے کے بعد ان چاروں کو پانچ پانچ سال قید کی سزاسنادی یہ قید سنتے ہی وہ تینوں عیسائی تاجر سلطان سے رحم کی اپیل کرنے لگے جبکہ یہ مسلمان تاجر بہت خوش تھا سلطان نے ان چاروں کو زندان میں قید کر واد یا اس زندان میں پہلے بھی۔ بے شمار قیدی تھے لیکن ہارون ان تمام اہے قیدیوں میں سے وہ واحد شخص تھا جسے کسی قسم کی کوئی پریشانی کوئی پچھتاوا نہیں تھا بلکہ وہ بہت خوش رہتا تھا جب دیگر قیدی یا کوئی بھی سپاہی اس سے پوچھتا کہ لوگ یہاں پر آکر پریشان ہو جاتے ہیں اور تم ہو کے ہر وقت ہنستے مسکراتے رہتے ہو ہارون نے کہا کہ اس میں بھی ایک راز ہے جو کہ میں تمہیں نہیں بتا سکتا بس تم لوگ یہی سمجھو کہ میں نے غلطی کی سو میں اس کی سزا پارہا ہوں حتی کہ چند سپاہیوں نے یہ خبر سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچائی کہ پورے زندان میں واحد ہارون نامی وہ تاجر ہے جو کہ
بہت خوش ہے جسے کسی قسم کی نہ ہی کوئی پریشانی ہے اور نہ ہی اپنے گناہ پر پچھتاوا سلطان نے سپاہیوں سے کہا کہ تم نے ہارون سے پوچھا نہیں کہ وہ زندان میں آکر اس قدر خوش کیوں ہے تو سپاہیوں نے بتایا کہ ہم نے پوچھا جس پر ہارون کہتا ہے کہ یہ ایک راز ہے جسے میں کسی کو نہیں بتا سکتا سپاہیوں نے مزید بتایا کہ سلطان معظم اس کے دیگر ساتھی قید قیدی بھی اس سے اتنا خوش ہونے کی وجہ پوچھتے ہیں تو وہ کسی کو بھی سیدھی بات نہیں کرتا ایک سپاہی نے کہا کہ سلطان معظم میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہارون کے زندان میں آکر اس قدر خوش رہنے میں کوئی نہ کوئی گہر ار از پوشیدہ ہے لیکن یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ قیدیوں اور سپاہیوں کے پوچھنے کے باوجود بھی وہ کسی کو سچ بتانا نہیں چاہتا حتی کہ اس کے ساتھی قیدی بھی اس کو اس حالی میں دیکھ کر بہت 
زیادہ حیران و پریشان ہوتے ہیں کہ یہ کیسا شخص ہے کہ قید میں اگر خوش ہو رہا ہے جبکہ ہر شخص اس قید سے نکلنے کی تدبیر سوچتا رہتا ہے سپاہیوں سے ساری گفتگو کرنے اور سننے کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا کہ خیر میں اس کا کوئی نہ کوئی طریقہ نکالتا ہوں جس سے ہارون اس راز سے پردہ اٹھادے کافی سوچ بچار کے بعد اخر سلطان صلاح الدین ایوبی اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ خود بھیس بدل کر ایک قیدی کی شکل میں اس زندان میں قید ہوں گے اور ہارون نامی اس تاجر سے خوش رہنے کے بارے میں سارار از جان سکیں فقط دو دن کے بعد سپاہیوں سے مشورہ کرنے کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی اپنا بھیس بدل کر ایک مجرم کی شکل میں قیدی بن کر زندان میں قید ہو گئے وہاں صرف چند سپاہیوں کے علاوہ کسی کو خبر نہیں تھی کہ یہ سلطان صلاح الدین ایوبی ہے جو کہ ایک قیدی کی شکل میں اس زندان میں آئے ہیں آخر چند دن گزرنے کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی بارون کے بہت زیادہ نزدیک ہو گئے کیونکہ سلطان خود بھی اس قید میں جاکر بہت خوش رہتے تھے اس پورے زندان میں ! ایک سلطان اور دوسرا شخص وہ ا شخص وہ ہارون تھا جو خوش رہتے تھے جبکہ باقی ہر قیدی پریشان رہتا تھا آخر ایک دن ہارون نے سلطان کو قیدی سمجھتے ہوئے پوچھا کہ تم جب سے اسے زندان میں آئے ہو میری طرح بہت خوش رہتے ہو اخر اس کے پیچھے کیا راز ہے سلطان نے کہا کہ پہلے تم بتاؤ کہ میں جب سے ایا ہوں میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں کوئی پریشانی کوئی تکلیف نہیں ہے تو ہارون نے کہا کہ میں تمہیں رات کو سارا قصہ بتاؤں گا سلطان نے کہا ٹھیک ہے پھر میں بھی تمہیں رات کو ہی بتاؤں گا کہ میں خوش کیوں ہوں آخر رات عشاء کے وقت سلطان نے نماز ادا کی تو پھر ہارون سے پوچھا کہ اب بتاؤ کہ تم اتنے خوش کیوں ہو بارون نے کہا کہ در اصل بات پر ہے کہ میں نے حرام حلال طریقے سے بہت زیادہ دینار کمائے لیکن میری کمائی گئی تمام دولت عیاشیوں میں اڑ گئی پھر میں نے مختلف تاجروں سے قرض لینا شروع کر دیے میں نے کم و بیش 10 تاجروں سے قرضہ لیا ہے اور اسے کھا چکا ہوں اب وہ قرض لوٹانے کی مجھ میں سکت نہیں تھی اور نہ ہی میں لوٹانا چاہتا ہوں مجھ سے جب بھی کوئی تاجر اپنی رقم کا تقاضہ کرتا تو میں کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتا حتی کہ آخر میں نے ان عیسائیوں کے شراب کے کارخانے میں کام کرنا شروع کر دیا جہاں یسے مجھے اچھی خاصی رقم ملتی تھی جس سے میری عیاشیوں والی پر تعیش زندگی سکون سے گزر رہی تھی لیکن ایک دن سلطان نے چھاپہ مار کر مجھے اور میرے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ر ہی بات کہ میں خوش کیوں ہوں وہ وجہ یہ ہے کہ میں نے دولاکھ دینار کا قرض لیا ہے اور لوگوں کو واپس لوٹانے کے بہانے بتا بتا کر میں تھک چکا تھا حتی کہ چند تاجروں نے تو مجھے گالیاں تک دی ایک دو تاجروں نے میرے گریبان کو پکڑا میں بہت پریشان ہوتا تھا کہ میں یہ رقم کیسے لوٹاؤں لیکن مجھے یقین تھا کہ میں ان کی رقم کسی بھی حال میں واپس نہیں لوٹا سکتا جب سلطان نے مجھے قید میں ڈالا تو میں بہت خوش ہوا کہ اب مجھے کسی بھی تاجر کے پیسے نہیں لوٹانے پڑیں گے کیونکہ پانچ سال کی قید ہوئی ہے ان پانچ سالوں میں تو کوئی تاجر مجھے سے اپنی رقم واپس مانگنے کا تقاضہ نہیں کرے گا پانچ سال بعد کون زندہ ہو گا کون مر گیا ہو گا وہ دیکھا جائے گا اور ویسے بھی میں اس قید سے نکلنے۔ کے بعد اس شہر کو چھوڑ کر فلسطین میں جا کر اپنی زندگی کے باقی دن ارام سے گزاروں گا یہ سن کر سلطان کو بڑا عجیب سالگا خیر پھر ہارون نے سلطان سے پوچھا کہ اب تم بتاؤ کہ تم اتنا خوش کیوں رہتے ہو سلطان نے کہا کہ میں اس سلطنت کا سلطان صلاح الدین ایوبی ہوں میں اس لیے خوش ہوں کہ میں تمہارے راز کو جان چکا ہوں یہ سنتے ہی ہارون کہ سر پر گڑھے پڑنے لگے وہ فوری سلطان کے قدموں میں گر گیا اور کہا کہ مجھے معاف کردیجیے سلطان چاہتے تو اسے مزید سخت سزادے سکتے تھے لیکن پھر سلطان نے زندان کے تمام قیدیوں کو اکٹھا کیا اور ہارون اور اپنے راز کے بارے میں بتایا کہ میں کوئی قیدی نہیں بلکہ سلطان ہوں اور رہی بات کہ ہارون اتنازیادہ خوش کیوں تھا وہ ساری بات بھی ان تمام قیدیوں کے گوش گزار کی اور پھر کہا کہ اے بارون تم اس لیے خوش ہو کے تم دس تاجروں کے دولاکھ دینار واپس نہیں کرنا چاہتے اور جب تک تم اس زندان میں ہو تو تمہیں کوئی تنگ بھی نہیں کرے گا تم ایک مسلمان ہو اور مجھے تمہاری سوچ پر بہت زیادہ شرمندگی ہو رہی ہے کہ ہم سب نے کسی نبی کا کلمہ پڑھا ہے یہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے اگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس کسی قرضدار کا جنازہ تک لے جایا جاتا تو اپ اس کا جنازہ نہ پڑھاتے بلکہ پہلے اس کے قرض اتارنے کا بندوبست کرتے اے ہارون تم کتنے بد بخت انسان ہو کے تم جان بوجھ کر تاجروں سے قرض لیتے ہو اور خوش اس بات پر ہو کہ پانچ سال سکون سے گزر جائیں گے کیا تمہیں موت یاد نہیں آتی کیا تم نے مرنا نہیں ہے تم اپنا یہ قرض کسی بھی چالاکی کے ساتھ یہاں پر چلو ادا نہیں بھی کرو گے تو اخرت میں تمہارا کیا بنے گا ایسی عیاشی والی زندگی کا کیا فائدہ کہ جس سے دنیا بھی خراب ہو دنیا میں بھی تمہارا اعتبار تمہاری عزت ختم ہو جائے اور آخرت میں بھی تم سخت سزا کے حقدار ٹھہرو کیا تمہیں نہیں پتہ کہ قرضہ کتنا بڑا گناہ ہے تمہاری جو بھی سوچ ہو لیکن تم یہ تو سمجھتے ہو کہ ہ ہم سب نے یہ دنیا چھوڑنی ہے مرنے کے بعد تمہیں دنیا والے بھی ذلیل جانیں گے اور اللہ کی بارگاہ میں بھی تم کڑی سزا کے مستحق ٹھہرو گے ابھی سلطان بول ہی رہے تھے کہ ہارون تاجر دھاڑے مار مار کر رونے لگا اور کہا کہ جو بات مجھے پچھلے 20 سالوں میں سمجھ نہیں آئی وہ اپ نے مجھے چند لمحوں میں سمجھادی میں معافی چاہتا ہوں مجھے معاف کر دیجئے میں اپنی موت کو بھول بیٹھا تھا میں اتنے قیدیوں کے سامنے وعدہ کرتا ہوں کہ میں جب بھی اس قید سے رہائی پاؤں گا تو میں تمام تاجروں کا ایک ایک دینار واپس کروں گا اور پھر بالکل ایسا ہی ہوا پانچ سال کی جگہ ان قیدیوں کو دو سال بعد سلطان صلاح الدین ایوبی نے رہائی دے دی اور پھر اس تاجر نے جب نیک نیت سے کاروبار کرنا چاہا تو اس کے پاس رقم نہیں تھی تب سلطان صلاح الدین ایوبی نے شاہی خزانے سے اسے دینار دیے جس سے اس بارون تاجر نے تجارت شروع کی اور حتی کہ اس نے اپنا تمام قرضہ بھی اتارا اور ایک مالدار شخص کی حیثیت سے اپنا مقام بھی بنالیا سلطان صلاح الدین ایوبی اکثر اس بارون تاجر کی زندگی کے بارے میں لوگوں کو بتایا کرتے تھے کہ کس طرح ایک شخص عیاشیوں میں پڑ گیا پھر اللہ نے اسے ہدایت دی بے شک اللہ جب چاہے جسے چاہے اسے ہدایت دے اور اس کی زندگی کا رخ نیکیوں کی طرف موڑ دے .

Post a Comment

0 Comments